






دبئی کے گلاس ٹاورز اور مالز سے چند کلومیٹر باہر ہی منظر بدل جاتا ہے – سڑکیں ختم ہو کر ریت شروع ہو جاتی ہے، آسمان کھل جاتا ہے اور ہوا کا مزاج بدل جاتا ہے۔ ڈیسرٹ سفاری عام طور پر ڈون بییشنگ، اونٹ کی سواری، کوآڈ یا بگی رائیڈ، سینڈ بورڈنگ، بدوی اسٹائل کیمپ، کھانا اور شو – سب کو ایک ہی تجربے میں سمیٹ دیتا ہے۔.
زیادہ تر سفاری پورا سال چلتی ہیں۔ شام اور رات کے ٹور سب سے مقبول ہیں کیونکہ اس وقت درجہ حرارت نسبتاً کم ہوتا ہے اور آپ سن سیٹ اور ستاروں کا نظارہ بھی کر سکتے ہیں۔ صبح کے ٹور اُن لوگوں کے لیے اچھے ہیں جو ہلکی ٹھنڈی ہوا میں پرسکون ریگستان دیکھنا چاہتے ہیں۔
کوئی مستقل چھٹی نہیں ہوتی، لیکن تیز آندھی، ریت کے طوفان یا انتہائی گرمی کی صورت میں کمپنی حفاظتی وجوہات کی بنا پر ٹور منسوخ یا مؤخر کر سکتی ہے۔
متحدہ عرب امارات، دبئی کے اطراف کے ریگستانی علاقے (Lahbab، Al Marmoom وغیرہ)
زیادہ تر پیکجز میں ہوٹل یا کسی مرکزی پوائنٹ سے پِک اپ اور ڈراپ شامل ہوتا ہے، اس لیے عمومی طور پر آپ کو خود گاڑی چلا کر ریگستان کے اندر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
دبئی میٹرو (ریڈ لائن) کے ذریعے آپ Mall of the Emirates، Dubai Marina یا Business Bay جیسی اسٹاپس تک پہنچ سکتے ہیں، وہاں سے ٹیکسی یا کمپنی کی وین آپ کو سفاری کی پِک اپ لوکیشن تک لے جاتی ہے۔
کچھ کمپنیاں اجازت دیتی ہیں کہ آپ اپنی یا رینٹ کی کار پر شہری حدود سے باہر کسی پکے پارکنگ پوائنٹ تک آئیں۔ وہاں سے آگے ریت پر کمپنی کی 4×4 گاڑیاں لے جاتی ہیں – جو کہ خود تجربہ کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔
میٹرو اور بسوں کو ملا کر آپ بڑے مالز یا ہوٹل ایریاز تک پہنچ سکتے ہیں، پھر وہاں سے ٹیکسی یا کمپنی کا ٹرانسفر لے سکتے ہیں۔ اگر آپ بار بار سواری بدلنے سے بچنا چاہتے ہیں تو بہتر ہے کہ ایسا پیکج لیں جس میں براہِ راست ہوٹل پِک اپ شامل ہو۔
شہر سے ریگستان تک پیدل جانے کا سوچنا بھی مناسب نہیں – فاصلہ، گرمی اور سڑکوں کی نوعیت، سب کچھ اس کے خلاف جاتے ہیں۔ ہمیشہ منظم ٹرانسفر ہی کا انتخاب کریں۔
ایک شام میں ہی آپ سہولت کے ساتھ ایڈونچر، سکون، خوبصورت مناظر اور عربی ثقافت سے پہلا تعارف حاصل کر سکتے ہیں – یہی ڈیسرٹ سفاری کی خوبصورتی ہے۔
جب گاڑی ریت کے ڈھلوان پر چڑھتی ہے اور پھر ایک دم نیچے کی طرف جھولتی ہے تو کچھ لمحوں کے لیے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ پروفیشنل ڈرائیور ریت کی موٹائی، زاویہ اور رفتار کو دیکھتے ہوئے ایسی لائن چنتا ہے کہ مزہ بھی آئے اور خطرہ بھی نہ ہو۔
اونٹ کی پشت پر بیٹھ کر آہستہ آہستہ چلنا، ریت اور آسمان کو ایک الگ نظر سے دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔ کیمپ میں پہنچ کر آپ کو ریت پر بچھے قالین، نیچے بیٹھنے کی نشستیں، نرم روشنی اور کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر کھانا کھانے کا منفرد ماحول ملتا ہے۔
جو مسافر خود ڈرائیو کر کے ریگستان محسوس کرنا چاہتے ہیں، اُن کے لیے کوآڈ بائیک اور بگی بہترین آپشن ہیں۔ اگر آپ نسبتاً نرم تجربہ چاہتے ہیں تو سینڈ بورڈ لے کر ٹیلے سے آہستہ آہستہ نیچے پھسلیں اور دیکھیں کہ کس طرح آسمان کا رنگ ہر منٹ بدلتا ہے۔

کچھ لوگ فجر کے قریب ٹھنڈا اور خاموش ریگستان پسند کرتے ہیں، کچھ لوگ سن سیٹ اور رات کے شوز کے دلدادہ ہوتے ہیں – آپ کے پاس دونوں آپشن موجود ہیں۔
4×4، اونٹ کی سواری، کوآڈ/بگی، بہتر ڈنر، کیمپ میں وی آئی پی سیٹنگ – ان سب کو ملا کر اپنے بجٹ اور ذوق کے مطابق پیکج بنا سکتے ہیں۔